ابن مریم ہوا کرے کوئی، میرے دکھ کی دوا کرے کوئی
بسکہ دشوار ہے ہر کام کا آساں ہونا، آدمی کو بھی میسر نہیں انساں ہونا
دل ہی تو ہے نہ سنگ و خشت درد سے بھر نہ آئے کیوں، روئیں گے ہم ہزار بار کوئی ہمیں ستائے کیوں
عشق مجھ کو نہیں وحشت ہی سہی، میری وحشت تری شہرت ہی سہی
آہ کو چاہیے اک عمر اثر ہوتے تک، کون جیتا ہے تری زلف کے سر ہوتے تک
ہر ایک بات پہ کہتے ہو تم کہ تو کیا ہے، تمہیں کہو کہ یہ انداز گفتگو کیا ہے