خرد مندوں سے کیا پوچھوں کہ میری ابتدا کیا ہے، کہ میں اس فکر میں رہتا ہوں میری انتہا کیا ہے
ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں، ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں