کوئی امید بر نہیں آتی، کوئی صورت نظر نہیں آتی
یہ نہ تھی ہماری قسمت کہ وصال یار ہوتا، اگر اور جیتے رہتے یہی انتظار ہوتا
دل ناداں تجھے ہوا کیا ہے، آخر اس درد کی دوا کیا ہے
ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے، بہت نکلے مرے ارمان لیکن پھر بھی کم نکلے
چین و عرب ہمارا ہندوستاں ہمارا، مسلم ہیں ہم وطن ہے سارا جہاں ہمارا
لا پھر اک بار وہی بادہ و جام اے ساقی، ہاتھ آ جائے مجھے میرا مقام اے ساقی