دل سوز سے خالی ہے نگہ پاک نہیں ہے، پھر اس میں عجب کیا کہ تو بے باک نہیں ہے
انوکھی وضع ہے سارے زمانے سے نرالے ہیں، یہ عاشق کون سی بستی کے یارب رہنے والے ہیں
خودی کی شوخی و تندی میں کبر و ناز نہیں، جو ناز ہو بھی تو بے لذت نیاز نہیں
اگر کج رو ہیں انجم آسماں تیرا ہے یا میرا، مجھے فکر جہاں کیوں ہو جہاں تیرا ہے یا میرا
کبھی اے حقیقت منتظر نظر آ لباس مجاز میں، کہ ہزاروں سجدے تڑپ رہے ہیں مری جبین نیاز میں
ترے عشق کی انتہا چاہتا ہوں، مری سادگی دیکھ کیا چاہتا ہوں