سب سے بڑا عیب یہ ہے کہ تم کسی میں وہ بات برا سمجھو جو خود تم میں بھی موجود ہے۔
ماموں کو دیر سے آنے والوں سے سخت چڑ تھی۔ ہر شادی میں کسی نہ کسی کے بارے میں کہتے، "اس قوم کو وقت کی قدر ہی نہیں۔" خود وہ ہر تقریب میں کھانا کھلنے کے بعد پہنچتے تھے۔ کسی نے ہمت کر کے یاد دلایا تو بولے، "میری بات اور ہے، میرا کام ہی ایسا ہے۔"
ہم سب کے پاس یہ جملہ ہوتا ہے: "میری بات اور ہے۔" دوسرا غصہ کرے تو بدتمیز، ہم کریں تو مجبور۔ دوسرا غیبت کرے تو بری عادت، ہم کریں تو "بس ویسے ہی بتا رہا تھا۔"
اگلی بار کسی کی کوئی بات کھٹکے تو ایک لمحہ رک کر دیکھ لیجیے کہ کہیں یہ چیز آپ میں بھی تو نہیں۔ اکثر جو عیب ہمیں سب سے جلدی دکھتا ہے، وہ ہمارا اپنا ہوتا ہے، کیونکہ اسے ہم سب سے اچھی طرح پہچانتے ہیں۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ، نہج البلاغہ، قصار الحکم 352۔ ترجمہ: قصہ کہانی۔
Commentsتبصرے (0)
To comment,تبصرہ کرنے کے لیے log inلاگ ان کریں
No comments yet. Be the first to comment!ابھی کوئی تبصرہ نہیں۔ پہلا تبصرہ آپ کریں!