جب سختی اپنی انتہا کو پہنچ جاتی ہے تو کشادگی آتی ہے، اور جب مصیبت کے حلقے تنگ ہو جاتے ہیں تو آسانی آ جاتی ہے۔

حلقوں والی مثال پر غور کیجیے۔ زنجیر کی کڑیاں جتنی کس کر بندھیں، ٹوٹنے کے اتنا ہی قریب ہوتی ہیں۔ ڈھیلی زنجیر برسوں پڑی رہتی ہے، تنی ہوئی زنجیر کسی دن چٹخ جاتی ہے۔

مشکل کے دنوں میں سب سے بھاری وقت عموماً آخری والا ہوتا ہے۔ وہ رات جب لگتا ہے کہ اب کچھ نہیں ہو سکتا۔ اکثر لوگ اسی رات ہمت ہارتے ہیں، حالانکہ صبح دروازے پر ہوتی ہے۔

میری خالہ کہتی ہیں کہ ان کی زندگی کا سب سے برا دن وہ تھا جب بیٹے کا آپریشن تھا اور گھر میں دوائی کے پیسے نہیں تھے۔ اسی شام ان کے بھائی کا منی آرڈر آیا جو تین ہفتے سے ڈاک خانے میں پڑا تھا۔

حضرت علی رضی اللہ عنہ، نہج البلاغہ، قصار الحکم 350۔ ترجمہ: قصہ کہانی۔