دوست سے محبت حد میں رکھو، شاید وہ کسی دن دشمن بن جائے، اور دشمن سے نفرت حد میں رکھو، شاید وہ کسی دن دوست بن جائے۔
پہلی نظر میں یہ قول کچھ ٹھنڈا لگتا ہے، جیسے دوست پر شک کرنے کو کہا جا رہا ہو۔ مگر بات شک کی نہیں، توازن کی ہے۔
جس دوست کو ہم نے اپنا ہر راز دے دیا ہو، اس سے بگڑ جائے تو ہم اس کے ہاتھ میں ہوتے ہیں۔ اور جس دشمن کے بارے میں ہم نے سب کے سامنے ہر حد پار کر دی ہو، کل اس سے صلح کرنی پڑ جائے تو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہتے۔
ملتان میں دو کاروباری ساتھی پندرہ سال ایک دوسرے کے خلاف مقدمے لڑتے رہے۔ پھر ایک کے بیٹے کو گردے کی ضرورت پڑی، اور میچ دوسرے کے بیٹے کا نکلا۔ اسپتال کے برآمدے میں دونوں کو وہ سب باتیں یاد آ رہی تھیں جو کہنی نہیں چاہیے تھیں۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ، نہج البلاغہ، قصار الحکم 267۔ ترجمہ: قصہ کہانی۔
Commentsتبصرے (0)
To comment,تبصرہ کرنے کے لیے log inلاگ ان کریں
No comments yet. Be the first to comment!ابھی کوئی تبصرہ نہیں۔ پہلا تبصرہ آپ کریں!