اے آدم کے بیٹے، اپنے آنے والے دن کی فکر کو آج کے دن کی فکر پر نہ لادو۔ اگر کل تمہاری عمر میں شامل ہے تو اللہ اس میں تمہارا رزق بھی دے گا۔

ٹھوکر نیاز بیگ کے چوک پر صبح چھ بجے مزدور بیٹھتے ہیں۔ کسی کو آج کام ملے گا، کسی کو نہیں۔ ایک بار ان میں سے ایک بزرگ سے پوچھا کہ کل کا کیا ہوگا۔ ہنس کر بولے، "بیٹا، آج کا بوجھ اٹھانے کے لیے کندھے ملے ہیں، کل کا بوجھ کل والے کندھے اٹھائیں گے۔"

ہمارے پاس ان سے کہیں زیادہ ہے، اور ہم ان سے کہیں زیادہ پریشان ہیں۔ ہم بیس سال آگے کی فیس، دس سال آگے کی شادی، اور پانچ سال آگے کی بیماری کا خرچ آج کی رات سوچ کر جاگتے ہیں۔

یہ قول منصوبہ بندی سے منع نہیں کرتا۔ یہ اس فکر سے منع کرتا ہے جو کچھ کرتی نہیں، بس آج کو کھا جاتی ہے۔

حضرت علی رضی اللہ عنہ، نہج البلاغہ، قصار الحکم 266۔ ترجمہ: قصہ کہانی۔