تیز مزاجی ایک قسم کی دیوانگی ہے، کیونکہ تیز مزاج بعد میں پچھتاتا ہے، اور اگر نہ پچھتائے تو اس کی دیوانگی پکی ہے۔
کیا خوب پیمانہ دیا ہے۔ غصے کے بعد اگر شرمندگی ہو تو سمجھو کہ کچھ دیر کے لیے ہوش چلا گیا تھا۔ اور اگر شرمندگی بھی نہ ہو، تو ہوش کبھی تھا ہی نہیں۔
ایک دوست نے بتایا کہ اس نے ایک رات بیٹے کی کھلونا گاڑی دیوار پر دے ماری، کیونکہ وہ دفتر کی کال کے دوران شور کر رہا تھا۔ گاڑی ٹوٹ گئی۔ بچہ رو کر سو گیا۔ دوست ساری رات اس کے سرہانے بیٹھا رہا۔ کہنے لگا، "کال کا مجھے آج یاد بھی نہیں کہ کس بارے میں تھی۔"
غصہ ایک لمحے کا ہوتا ہے، پچھتاوا بہت دیر ٹھہرتا ہے۔ دیوانگی اسی سودے کا نام ہے۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ، نہج البلاغہ، قصار الحکم 254۔ ترجمہ: قصہ کہانی۔
Commentsتبصرے (0)
To comment,تبصرہ کرنے کے لیے log inلاگ ان کریں
No comments yet. Be the first to comment!ابھی کوئی تبصرہ نہیں۔ پہلا تبصرہ آپ کریں!