اگر تم بردبار نہیں ہو تو بردباری اختیار کرو، کیونکہ کم ہی ایسا ہوتا ہے کہ کوئی کسی قوم کی نقل کرے اور ان میں سے نہ ہو جائے۔
مجھے یہ قول اس لیے اچھا لگتا ہے کہ یہ ہمیں جھوٹا بننے کا نہیں، شروع کرنے کا کہتا ہے۔
غصیلے آدمی سے کہا جائے کہ بردبار بنو تو وہ کہتا ہے، "میری فطرت ہی ایسی ہے۔" یہ قول کہتا ہے کہ کوئی بات نہیں، فطرت نہ سہی، اداکاری کر لو۔ اگلی بار جب خون کھولے تو ایسے بیٹھو جیسے کوئی ٹھنڈے مزاج کا آدمی بیٹھتا ہے۔ آواز ویسی رکھو جیسی وہ رکھتا ہے۔
پہلی بار یہ اداکاری ہوگی، دسویں بار عادت، اور سوویں بار شاید آپ خود بھی بھول جائیں کہ کبھی ایسے نہیں تھے۔ ہاتھ سے لکھنا بھی تو ہم نے لکیروں کی نقل سے ہی سیکھا تھا۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ، نہج البلاغہ، قصار الحکم 206۔ ترجمہ: قصہ کہانی۔
Commentsتبصرے (0)
To comment,تبصرہ کرنے کے لیے log inلاگ ان کریں
No comments yet. Be the first to comment!ابھی کوئی تبصرہ نہیں۔ پہلا تبصرہ آپ کریں!