جو مال کھو گیا مگر تمہیں نصیحت دے گیا، وہ ضائع نہیں ہوا۔
راولپنڈی میں موبائل کی دکان کھولی تو پہلے ہی مہینے ایک صاحب پانچ ہزار کا جعلی نوٹ دے کر نیا فون لے گئے۔ ابا نے وہ نوٹ کاؤنٹر کے پیچھے دیوار پر لگا دیا۔ میں نے کہا اتارئیے، شرمندگی ہوتی ہے۔ بولے، "یہ تمہاری سب سے مہنگی کتاب ہے، اسے سامنے رکھو۔"
اس کے بعد دس سال میں ایک بھی جعلی نوٹ نہیں آیا۔ وہ پانچ ہزار شاید ہماری زندگی کی سب سے فائدہ مند رقم تھی۔
نقصان تو ہو ہی جاتا ہے۔ اصل نقصان وہ ہے جس کے بعد آدمی ویسا ہی رہے جیسا پہلے تھا۔ پھر وہی گڑھا، وہی ٹھوکر۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ، نہج البلاغہ، قصار الحکم 195۔ ترجمہ: قصہ کہانی۔
Commentsتبصرے (0)
To comment,تبصرہ کرنے کے لیے log inلاگ ان کریں
No comments yet. Be the first to comment!ابھی کوئی تبصرہ نہیں۔ پہلا تبصرہ آپ کریں!