دوسروں کے سینے سے برائی کو جڑ سے اکھاڑنا ہو تو پہلے اسے اپنے سینے سے اکھاڑو۔

ساتھ والی آنٹی سے امی کی برسوں کی ان بن تھی۔ ہر بات پر طعنہ، ہر شادی پر ایک دوسرے کو نہ بلانا۔ امی ہمیشہ کہتیں کہ پہل انہوں نے کی تھی۔

ایک دن امی کو بخار تھا اور میں اسکول سے آیا تو آنٹی ہمارے چولہے پر دال بنا رہی تھیں۔ امی نے بعد میں بتایا کہ اس صبح انہوں نے خود فیصلہ کیا تھا کہ اب جواب میں طعنہ نہیں دیں گی، اور تین ہفتے تک نہیں دیا۔ آنٹی کچھ دن حیران رہیں، پھر ان کی زبان بھی تھک گئی۔

ہم دوسروں کی دشمنی کا رونا روتے ہیں اور اپنی طرف کی گرہ نہیں کھولتے۔ مگر رسی دونوں طرف سے بندھی ہوتی ہے۔ ایک سرا ڈھیلا ہو تو دوسرا زیادہ دیر تنا نہیں رہ سکتا۔

حضرت علی رضی اللہ عنہ، نہج البلاغہ، قصار الحکم 177۔ ترجمہ: قصہ کہانی۔