لوگ اس چیز کے دشمن ہوتے ہیں جسے وہ نہیں جانتے۔

نانی کو موبائل فون سے سخت چڑ تھی۔ کہتی تھیں کہ یہ ڈبہ گھر والوں کو ایک دوسرے سے دور کر رہا ہے۔ کوئی ان کے سامنے فون نکالتا تو منہ پھیر لیتیں۔ پھر ایک عید پر ماموں نے کینیڈا سے ویڈیو کال کی، اور نانی نے آٹھ سال بعد اپنے پوتے کو چلتے ہوئے دیکھا۔ اس شام وہ خود فون مانگ رہی تھیں۔

نئی بات، نئی زبان، نئے لوگ، دوسرے شہر کا لہجہ، ہم ان سب کے بارے میں فیصلہ پہلے کر لیتے ہیں اور جانتے بعد میں ہیں۔ بلکہ اکثر جانتے ہی نہیں، کیونکہ فیصلہ ہو چکا ہوتا ہے۔

دشمنی کا علاج تعارف ہے۔ جس چیز سے ڈر لگے، اس کے پاس جا کر ایک بار ٹھیک سے دیکھ لیجیے۔

حضرت علی رضی اللہ عنہ، نہج البلاغہ، قصار الحکم 171۔ ترجمہ: قصہ کہانی۔