لوگوں سے محبت سے پیش آنا آدھی عقل ہے۔

یہ قول پہلی بار پڑھا تو عجیب لگا۔ محبت کا عقل سے کیا لینا دینا؟ عقل تو حساب کتاب ہے، فیصلے ہیں، دلیلیں ہیں۔

پھر بینک کی ایک برانچ میں بیٹھنے کا اتفاق ہوا۔ دو کیشیئر تھے۔ ایک بہت تیز، ہر کام دو منٹ میں، مگر ہر بزرگ کو جھڑک کر۔ دوسرا تھوڑا سست، مگر ہر آدمی کا نام یاد رکھتا تھا۔ مہینے کے آخر میں پتا چلا کہ نئے اکاؤنٹ اسی سست والے کی وجہ سے کھلے تھے۔ لوگ اپنے رشتہ داروں کو کہتے تھے، "وہاں جاؤ، اکرم صاحب کے پاس۔"

آدمی کا آدھا کام لوگوں کے ساتھ ہوتا ہے۔ جو انہیں ساتھ نہیں رکھ سکا، اس کی باقی آدھی عقل اکیلے کتنا کر لے گی؟

حضرت علی رضی اللہ عنہ، نہج البلاغہ، قصار الحکم 142۔ ترجمہ: قصہ کہانی۔