جس نے "میں نہیں جانتا" کہنا چھوڑ دیا، وہ ہلاکت کی جگہوں پر جا پہنچا۔

ہمارے گاؤں میں ایک حکیم صاحب تھے جن کے پاس ہر مرض کی دوا تھی۔ کسی نے کبھی ان کے منہ سے یہ نہیں سنا کہ یہ میری سمجھ سے باہر ہے۔ پھر ایک دن ایک بچے کا پیٹ کا درد جو آپریشن مانگتا تھا، ان کے چورن پر تین دن ٹلتا رہا۔

اس کے مقابلے میں اڈے پر میڈیکل اسٹور والے رشید بھائی تھے، جو آدھی بات سن کر کہہ دیتے، "یہ میرا کام نہیں، سرگودھا لے جاؤ۔" لوگ انہیں کم علم سمجھتے تھے۔ مگر گاؤں والوں کی جان زیادہ انہوں نے بچائی۔

"نہیں جانتا" کہنا شرمندگی لگتا ہے، حالانکہ یہ کسی بھی سیکھنے کا پہلا قدم ہے۔ جو پہلے ہی سب جانتا ہو، اسے کوئی کیا سکھائے؟

حضرت علی رضی اللہ عنہ، نہج البلاغہ، قصار الحکم 85۔ ترجمہ: قصہ کہانی۔