تھوڑا دینے میں شرم نہ کرو، کیونکہ خالی ہاتھ لوٹانا اس سے بھی کم ہے۔

ہم اکثر اس لیے کچھ نہیں دیتے کہ جو دے سکتے ہیں وہ ہمیں بہت کم لگتا ہے۔ جیب میں پچاس کا نوٹ ہے، اور مانگنے والے کی ضرورت پچاس ہزار کی ہے۔ سوچتے ہیں کہ اس سے کیا ہوگا، اور گاڑی کا شیشہ اوپر کر لیتے ہیں۔

مگر حساب سیدھا ہے۔ پچاس بہت کم سہی، صفر سے پھر بھی زیادہ ہے۔ اور جو آدمی صبح سے سڑک پر کھڑا ہے، اس کے لیے دس لوگوں کے پچاس پچاس روپے ایک دن کی روٹی بن جاتے ہیں۔

ایک بات اور۔ شرم دینے والے کو آتی ہے، لینے والا عموماً شرمندہ نہیں ہوتا، شکر گزار ہوتا ہے۔ تو جو شرم ہمیں روک رہی ہے، وہ اصل میں ہماری اپنی شان کی فکر ہے۔

حضرت علی رضی اللہ عنہ، نہج البلاغہ، قصار الحکم 67۔ ترجمہ: قصہ کہانی۔