دوستوں کا کھو جانا پردیس ہے۔
پردیس کے لیے ٹکٹ ضروری نہیں۔ آدمی اپنی ہی گلی میں پردیسی ہو سکتا ہے۔
سرگودھا کا وہ چائے کا کھوکھا اب بھی وہیں ہے۔ وہی بنچ، وہی کیتلی، بس ہم چاروں میں سے ایک دبئی چلا گیا، ایک لاہور، اور ایک کا نمبر بند ملتا ہے۔ اب میں جاتا ہوں تو چائے والا پوچھتا ہے، "اکیلے؟" اور یہ ایک لفظ پورے شہر کو اجنبی کر دیتا ہے۔
کہتے ہیں دوست بناتے رہنا چاہیے۔ ٹھیک ہے، مگر پرانے دوست کی جگہ نیا نہیں لیتا، بس ساتھ بیٹھ جاتا ہے۔ اس لیے جو بچے ہیں، ان کا فون اٹھا لیا کیجیے۔ کبھی کبھی خود بھی کر لیا کیجیے، بغیر کسی کام کے۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ، نہج البلاغہ، قصار الحکم 65۔ ترجمہ: قصہ کہانی۔
Commentsتبصرے (0)
To comment,تبصرہ کرنے کے لیے log inلاگ ان کریں
No comments yet. Be the first to comment!ابھی کوئی تبصرہ نہیں۔ پہلا تبصرہ آپ کریں!