زبان ایک درندہ ہے، کھلا چھوڑ دو تو کاٹ کھاتی ہے۔

ابا اور چچا میں بارہ سال بات نہیں ہوئی۔ وجہ پوچھو تو دونوں کو ٹھیک سے یاد بھی نہیں تھی۔ بس اتنا معلوم تھا کہ دادی کے چالیسویں پر کسی نے کوئی جملہ کہا تھا، اور دوسرے نے اس سے بڑا جملہ جواب میں دے دیا۔ جملے بیس سیکنڈ کے تھے۔ ان کا اثر بارہ سال رہا۔

درندے کی مثال اس لیے بھی ٹھیک ہے کہ وہ سب سے پہلے پاس والوں کو کاٹتا ہے۔ اجنبی سے ہم پھر بھی تمیز سے بات کر لیتے ہیں۔ زبان کا زیادہ زخم گھر والوں کو لگتا ہے، کیونکہ وہ سامنے ہوتے ہیں۔

غصہ آئے تو منہ بند کر کے گنتی گننے والا مشورہ مذاق لگتا ہے۔ آزما کر دیکھیے۔ دس تک گنتے گنتے آدھا درندہ سو جاتا ہے۔

حضرت علی رضی اللہ عنہ، نہج البلاغہ، قصار الحکم 60۔ ترجمہ: قصہ کہانی۔