معاف کرنے کا سب سے زیادہ حق دار وہ ہے جو سزا دینے پر سب سے زیادہ قادر ہو۔

کمزور آدمی کا معاف کرنا اکثر مجبوری ہوتی ہے۔ وہ بدلہ لے ہی نہیں سکتا، اس لیے "جانے دو" کہہ دیتا ہے۔ اصل امتحان اس کا ہے جس کے ایک دستخط سے کسی کی نوکری جا سکتی ہو، جس کی ایک بات پر کسی کا گھر چھن سکتا ہو۔

فیصل آباد کے ایک کارخانے دار کا قصہ سنا تھا۔ ایک لڑکا کپڑے کے تھان چراتے پکڑا گیا۔ منیجر پولیس بلانے لگا۔ سیٹھ نے پوچھا، "کتنی تنخواہ ہے اس کی؟" پتا چلا کہ چار مہینے سے پوری نہیں ملی۔ اس دن پولیس نہیں آئی، اکاؤنٹنٹ کی جواب طلبی ہوئی۔

طاقت ہاتھ میں ہو تو بدلہ آسان ہوتا ہے۔ اسی لیے اس وقت معاف کرنا زیادہ بڑی بات ہے۔

حضرت علی رضی اللہ عنہ، نہج البلاغہ، قصار الحکم 52۔ ترجمہ: قصہ کہانی۔