لوگوں کے دل وحشی ہیں، جو انہیں سدھا لے، وہ اسی کی طرف جھک جاتے ہیں۔
وحشی کا مطلب برا نہیں، جنگلی ہے۔ جیسے کوئی ہرن، جو آدمی کو دیکھتے ہی بھاگ جاتا ہے۔ اسے رسی سے نہیں پکڑا جاتا۔ روز ایک ہی وقت پر، ایک ہی جگہ، تھوڑا سا دانہ رکھنا پڑتا ہے، اور پھر پیچھے ہٹ جانا پڑتا ہے۔
ہمارے اسکول میں ایک نئی استانی آئیں تو آٹھویں کا سب سے بدتمیز لڑکا پہلے ہی دن ان کی کرسی پر پانی گرا گیا۔ انہوں نے کچھ نہیں کہا۔ اگلے ہفتے اس کا جوتا کھلا دیکھا تو جھک کر تسمہ باندھ دیا۔ لڑکا اتنا شرمندہ ہوا کہ سال بھر سب سے پہلے کلاس میں آتا رہا۔
دلوں کو ڈانٹ سے بس قابو کیا جا سکتا ہے۔ ان کا جھک جانا کسی اور چیز سے ہوتا ہے۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ، نہج البلاغہ، قصار الحکم 50۔ ترجمہ: قصہ کہانی۔
Commentsتبصرے (0)
To comment,تبصرہ کرنے کے لیے log inلاگ ان کریں
No comments yet. Be the first to comment!ابھی کوئی تبصرہ نہیں۔ پہلا تبصرہ آپ کریں!