سخی بنو مگر فضول خرچ نہ بنو، کفایت کرو مگر کنجوس نہ بنو۔

دادا ابو کے پاس دو تھیلیاں ہوتی تھیں۔ ایک گھر کے خرچ کی، ایک "اوروں" کی۔ دوسری تھیلی میں کبھی بہت پیسے نہیں ہوئے، مگر وہ کبھی خالی بھی نہیں ہوئی۔ محلے میں کسی کی بیٹی کی شادی ہوتی یا کسی کا ٹانگہ ٹوٹ جاتا تو وہی تھیلی کھلتی۔ اپنے لیے وہ بیس سال ایک ہی کھیس اوڑھتے رہے۔

آج ہم دو انتہاؤں میں رہتے ہیں۔ شادی پر قرض لے کر ہزار لوگوں کو کھانا کھلاتے ہیں، پھر چھ مہینے دودھ والے سے منہ چھپاتے ہیں۔ یا پھر ہر چیز گن گن کر رکھتے ہیں اور سوال کرنے والے کو کہتے ہیں کہ معاف کرو بابا۔

اس قول میں دونوں طرف ایک حد کھینچی گئی ہے۔ ہاتھ کھلا رہے، مگر اتنا نہیں کہ اس میں کچھ ٹھہرے ہی نہیں۔

حضرت علی رضی اللہ عنہ، نہج البلاغہ، قصار الحکم 33۔ ترجمہ: قصہ کہانی۔