جو بات کوئی دل میں چھپاتا ہے، وہ اس کی زبان کی لغزشوں اور چہرے کے رنگ سے ظاہر ہو جاتی ہے۔
امی کو کبھی رپورٹ کارڈ دکھانا نہیں پڑا۔ میں دروازے سے اندر آتا اور وہ چائے کی دیگچی سے نظر اٹھا کر کہتیں، "کتنے نمبر کم آئے ہیں؟" میں نے کئی بار چہرہ بالکل سیدھا رکھ کر دیکھا۔ کچھ فائدہ نہیں ہوا۔ ایک بار پوچھا کہ آپ کو کیسے پتا چلتا ہے۔ کہنے لگیں، "جس دن نمبر اچھے ہوں، تم جوتے دروازے پر اتارتے ہو۔ جس دن خراب ہوں، سیدھے کمرے میں چلے جاتے ہو۔"
ہم سمجھتے ہیں کہ جھوٹ لفظوں میں بولا جاتا ہے، اس لیے لفظ سنبھال لیں تو بات بن جائے گی۔ مگر آدمی پورے جسم سے بولتا ہے۔ اسی لیے سب سے آسان راستہ یہ ہے کہ دل میں وہ رکھا ہی نہ جائے جسے چھپانا پڑے۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ، نہج البلاغہ، قصار الحکم 26۔ ترجمہ: قصہ کہانی۔
Commentsتبصرے (0)
To comment,تبصرہ کرنے کے لیے log inلاگ ان کریں
No comments yet. Be the first to comment!ابھی کوئی تبصرہ نہیں۔ پہلا تبصرہ آپ کریں!