جھجک کے ساتھ ناکامی جڑی ہے اور شرم کے ساتھ محرومی۔ موقع بادل کی طرح گزر جاتا ہے، سو بھلائی کے موقعے ہاتھ سے نہ جانے دو۔
ساتویں جماعت میں ماسٹر صاحب نے پوچھا تھا کہ دریائے سندھ کہاں سے نکلتا ہے۔ مجھے جواب آتا تھا۔ ہاتھ آدھا اٹھا، پھر خیال آیا کہ غلط ہوا تو پیچھے والے ہنسیں گے۔ ہاتھ نیچے آ گیا۔ اگلی قطار کے ایک لڑکے نے وہی جواب دیا اور شاباش لے گیا۔ بات چھوٹی سی تھی، مگر تیس سال بعد بھی یاد ہے۔
بادل والی مثال میں ایک بات اور چھپی ہے۔ بادل کو روکا نہیں جا سکتا، بس اس کے نیچے کھیت تیار رکھا جا سکتا ہے۔ جس کسان نے ہل نہیں چلایا، اس کے لیے بارش بھی صرف کیچڑ ہے۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ، نہج البلاغہ، قصار الحکم 21۔ ترجمہ: قصہ کہانی۔
Commentsتبصرے (0)
To comment,تبصرہ کرنے کے لیے log inلاگ ان کریں
No comments yet. Be the first to comment!ابھی کوئی تبصرہ نہیں۔ پہلا تبصرہ آپ کریں!