عقل جیسی کوئی دولت نہیں، جہالت جیسی کوئی غربت نہیں، ادب جیسی کوئی میراث نہیں، اور مشورے جیسا کوئی سہارا نہیں۔

چار جملوں میں آخری والا سب سے کم یاد رکھا جاتا ہے۔ مشورہ مانگنے میں عموماً انا آڑے آتی ہے، عقل نہیں۔

حضرت علی رضی اللہ عنہ، نہج البلاغہ، قصار الحکم 54۔ ترجمہ: قصہ کہانی۔