لوگوں کے ساتھ اس طرح رہو کہ مر جاؤ تو وہ تم پر روئیں، اور زندہ رہو تو تم سے ملنے کے مشتاق ہوں۔
جنازے پر لوگوں کی گنتی سے یہ حساب نہیں ہوتا۔ حساب اس سے ہوتا ہے کہ گھر آنے پر بچے دوڑ کر آتے ہیں یا کمرے میں چلے جاتے ہیں۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ، نہج البلاغہ، قصار الحکم 10۔ ترجمہ: قصہ کہانی۔
Commentsتبصرے (0)
To comment,تبصرہ کرنے کے لیے log inلاگ ان کریں
No comments yet. Be the first to comment!ابھی کوئی تبصرہ نہیں۔ پہلا تبصرہ آپ کریں!