یہ ناول ایک سیدھا سا سوال پوچھتا ہے: مرنے کے بعد کیا ہوگا؟ اور پھر اس کا جواب ایک کہانی کی شکل میں دینے کی کوشش کرتا ہے۔
راوی ایک عام سا آدمی ہے جو موت کے بعد ایک نئی دنیا میں آنکھ کھولتا ہے۔ قیامت کا دن، حساب، ملنے والے لوگ، اپنی زندگی کے وہ لمحے جنہیں وہ بھول چکا تھا، سب کچھ اس کی آنکھوں کے سامنے آتا ہے۔ وہ دیکھتا ہے کہ دنیا میں جو چیزیں بہت بڑی لگتی تھیں، وہاں کتنی چھوٹی ہیں، اور جو چھوٹی لگتی تھیں، کتنی بڑی۔
اس کتاب کو ادبی ناول کے پیمانے پر نہیں، ایک یاد دہانی کے طور پر پڑھنا چاہیے۔ مصنف کا مقصد صاف ہے، اور وہ اسے چھپاتے بھی نہیں۔ کچھ لوگوں کو اس کا لہجہ بہت نصیحت آمیز لگے گا، کچھ کے لیے یہی اس کی طاقت ہے۔
پچھلے پندرہ بیس سال میں نوجوانوں میں سب سے زیادہ شیئر کی جانے والی اردو کتابوں میں سے ایک۔ پڑھ کر آپ متفق ہوں یا نہیں، کچھ دیر سوچیں گے ضرور۔
Commentsتبصرے (0)
To comment,تبصرہ کرنے کے لیے log inلاگ ان کریں
No comments yet. Be the first to comment!ابھی کوئی تبصرہ نہیں۔ پہلا تبصرہ آپ کریں!