ہمارے بہت سے گھروں میں مہینے کی پہلی تاریخ کو ایک ہی سوال ہوتا تھا: نیا ڈائجسٹ آیا؟ اور اس سوال کے پیچھے اکثر "دیوتا" ہوتا تھا۔
محی الدین نواب کی یہ کہانی ایک ڈائجسٹ میں قسط وار چھپتی رہی، اور اتنے برس چلی کہ کچھ قاری بچپن میں شروع کر کے اپنے بچوں کے جوان ہونے تک پڑھتے رہے۔ اسے اردو کی سب سے لمبی کہانیوں میں گنا جاتا ہے۔
مرکزی کردار فرہاد علی تیمور ہے، جسے ٹیلی پیتھی آتی ہے۔ وہ دوسروں کے ذہن میں جھانک سکتا ہے، ان کے خیال بدل سکتا ہے۔ اس طاقت کے ساتھ وہ دنیا بھر کی سازشوں، جاسوسوں، محبتوں اور دشمنیوں میں الجھتا چلا جاتا ہے۔
اسے بڑا ادب کہنا شاید ٹھیک نہ ہو، اور نواب صاحب نے خود کبھی یہ دعویٰ نہیں کیا۔ مگر اس نے لاکھوں لوگوں کو اردو پڑھنے کی عادت ڈالی، اور یہ کوئی چھوٹی بات نہیں۔ اب یہ کتابی صورت میں کئی جلدوں میں ملتا ہے۔
Commentsتبصرے (0)
To comment,تبصرہ کرنے کے لیے log inلاگ ان کریں
No comments yet. Be the first to comment!ابھی کوئی تبصرہ نہیں۔ پہلا تبصرہ آپ کریں!