علی اکبر ناطق نے مزدوری کی، راج گیری کی، اور پھر اردو کے نمایاں لکھنے والوں میں آ گئے۔ یہ پس منظر ان کے پہلے ناول میں صاف دکھتا ہے، کیونکہ وہ گاؤں کو باہر سے نہیں، اندر سے جانتے ہیں۔
"نولکھی کوٹھی" تقسیم سے پہلے کے پنجاب سے شروع ہوتا ہے، جب نہریں نکل رہی تھیں، زمینیں الاٹ ہو رہی تھیں، اور انگریز افسر دیہات کے مالک بنے بیٹھے تھے۔ ایک کوٹھی ہے، اس کا انگریز مکین ہے، اور اس کے ارد گرد کے گاؤں، جن کے سکھ، مسلمان اور دوسرے رہنے والے آپس میں جڑے بھی ہیں اور لڑتے بھی ہیں۔ پھر 1947 آتا ہے۔
ناطق کی نثر میں پنجاب کی مٹی کی خوشبو ہے۔ کرداروں کی بولی، کھیتوں کے کام، پولیس اور پٹواری کی چالاکیاں، یہ سب اتنا سچا لگتا ہے کہ کہانی کبھی کبھی تاریخ کی دستاویز لگنے لگتی ہے۔
2014 کے آس پاس چھپا اور نئے اردو ناول کی بحث میں جلد اپنی جگہ بنا لی۔
Commentsتبصرے (0)
To comment,تبصرہ کرنے کے لیے log inلاگ ان کریں
No comments yet. Be the first to comment!ابھی کوئی تبصرہ نہیں۔ پہلا تبصرہ آپ کریں!