"دو گز زمین" کا نام بہادر شاہ ظفر کے مشہور شعر کی یاد دلاتا ہے، اور ناول بھی اسی سوال کے گرد ہے: آدمی کو آخر کتنی زمین چاہیے، اور وہ کہاں ہو؟

یہ بہار کے ایک مسلمان گھرانے کی کہانی ہے۔ 1947 میں کچھ لوگ چلے جاتے ہیں، کچھ رہ جاتے ہیں۔ جو مشرقی پاکستان جاتے ہیں، انہیں 1971 میں ایک اور ٹوٹ پھوٹ دیکھنی پڑتی ہے۔ ناول ان لوگوں کی تین نسلوں کو دکھاتا ہے، جن میں سے ہر ایک کسی نہ کسی جگہ کو گھر کہنے کی کوشش کرتا ہے۔

عبدالصمد سیاست پر تقریر نہیں کرتے۔ وہ گھر کے اندر کی بات کرتے ہیں، بھائیوں کے جھگڑے، ماؤں کی خاموشی، بچوں کے سوال۔ تاریخ پس منظر میں چلتی رہتی ہے اور کرداروں کو دھکیلتی رہتی ہے۔

1980 کی دہائی میں چھپا اور ہندوستان کے بڑے ادبی اعزازوں میں سراہا گیا۔ پاکستان میں کم پڑھا گیا، حالانکہ اس کی کہانی ہماری بھی ہے۔