یہ ناول ایک عمارت جیسا ہے۔ بہت بڑا، بہت باریکی سے بنایا ہوا، اور ہر کمرے میں کوئی نئی چیز۔

مرکز میں وزیر خانم ہیں، ایک ذہین، خود سر اور بے حد خوبصورت عورت، جو انیسویں صدی کی دلی میں اپنی مرضی سے جینا چاہتی ہیں۔ ان کی زندگی میں کئی مرد آتے ہیں، بادشاہوں اور نوابوں کے دربار آتے ہیں، اور ان کا ایک بیٹا ہوتا ہے جو آگے چل کر داغ دہلوی بنتا ہے۔

مگر فاروقی صاحب صرف ایک عورت کی کہانی نہیں لکھ رہے۔ وہ ایک پوری تہذیب کو دوبارہ زندہ کر رہے ہیں، اس کے کپڑے، کھانے، محاورے، شاعری، مصوری، اور وہ آداب جو اب صرف کتابوں میں ملتے ہیں۔ زبان پر ان کی گرفت ایسی ہے کہ ہر صفحہ پڑھ کر لگتا ہے جیسے اردو کا کوئی نیا لفظ ملا ہو۔

2006 میں چھپا، اور بعد میں انگریزی میں بھی آیا۔ ہزار کے قریب صفحے ہیں۔ ڈریں نہیں۔ یہ وہ کتاب ہے جو ختم ہونے پر آپ کو اداس کر دیتی ہے۔