اگر آپ کو لگتا ہے کہ اردو ناول اب پرانے طرز پر ہی لکھا جاتا ہے، تو "غلام باغ" اٹھا لیجیے۔ یہ کتاب آپ کی رائے بدل دے گی، یا کم از کم آپ کو الجھا ضرور دے گی۔
لاہور میں چند دوست ہیں، جن میں ایک ماہر آثار قدیمہ بھی ہے اور ایک لکھنے والا بھی۔ ان کا ایک ٹھکانہ ہے، اور اس کے پاس ایک پرانا ویران باغ، جس کا نام غلام باغ ہے۔ کہانی ان کی بحثوں، محبتوں اور الجھنوں کے گرد گھومتی ہے، اور بیچ میں طاقت، غلامی اور تاریخ جیسے سوال آتے رہتے ہیں۔
مرزا اطہر بیگ فلسفے کے استاد رہے ہیں، اور یہ بات صفحوں پر دکھتی ہے۔ کچھ ابواب بہت مزے کے ہیں، کچھ ایسے جن پر آپ کو رک کر سوچنا پڑے گا۔
2006 کے آس پاس چھپا اور جلد ہی نئی نسل کے پڑھنے والوں میں مقبول ہو گیا۔ موٹی کتاب ہے۔ اسے جلدی میں نہیں، مزے لے کر پڑھیے۔
Commentsتبصرے (0)
To comment,تبصرہ کرنے کے لیے log inلاگ ان کریں
No comments yet. Be the first to comment!ابھی کوئی تبصرہ نہیں۔ پہلا تبصرہ آپ کریں!