قدرت اللہ شہاب کو آج زیادہ لوگ "شہاب نامہ" سے جانتے ہیں۔ مگر ان کی یہ چھوٹی سی کتاب، جسے ناولٹ کہنا زیادہ ٹھیک ہے، اپنی جگہ ایک دھماکہ تھی۔

کہانی دلشاد کی ہے، ایک لڑکی جو تقسیم کے دنوں میں سب کچھ کھو کر پاکستان پہنچتی ہے۔ اس کا خیال ہے کہ سرحد پار کر کے اس کی مصیبت ختم ہو جائے گی۔ ایسا نہیں ہوتا۔ جن لوگوں سے اسے مدد کی امید تھی، وہ بھی اسے صرف ایک موقع کی طرح دیکھتے ہیں۔

یہ کتاب پڑھنا آسان نہیں۔ شہاب کوئی تسلی نہیں دیتے۔ وہ دکھاتے ہیں کہ ظلم کسی ایک قوم یا ایک طرف کی چیز نہیں، اور آزادی کے جشن میں بھی کچھ لوگ ایسے تھے جن کے لیے کچھ نہیں بدلا۔

1948 کے آس پاس لکھی گئی، تقسیم کے زخم ابھی تازہ تھے۔ چھوٹی ہے، ایک ہی نشست میں ختم ہو جاتی ہے، مگر ذہن سے جلدی نہیں نکلتی۔