نسیم حجازی کے ناول ہمارے ہاں ایک پوری نسل نے اسکول کی کتابوں کے بیچ چھپا کر پڑھے۔ "آخری چٹان" ان میں سے ایک ہے۔

پس منظر تیرہویں صدی کا ہے، جب چنگیز خان کی فوجیں وسط ایشیا کے شہر ایک ایک کر کے روند رہی تھیں۔ سلطنت خوارزم بکھر رہی ہے، اور اس کا شہزادہ جلال الدین ان چند لوگوں میں ہے جو ہار ماننے سے انکار کرتے ہیں۔ ناول اس کی جنگوں، اس کی بھاگ دوڑ، اور اس کے ارد گرد کے لوگوں کی کہانی ہے۔

حجازی کا انداز سیدھا ہے۔ ان کے ہیرو بہادر ہوتے ہیں اور غدار سچ مچ کے غدار۔ آج کا قاری شاید اسے کچھ زیادہ سیاہ و سفید سمجھے۔ مگر جو جذبہ ان کی کہانیوں میں ہے، اور جس طرح وہ پڑھنے والے کو اگلے صفحے تک کھینچتے ہیں، وہ بہت کم ناول نگاروں کے پاس ہے۔

تاریخ جاننے کے لیے کسی تاریخ کی کتاب سے ملا کر پڑھیں۔ کہانی کے لیے، بس پڑھنا شروع کر دیں۔