رضیہ بٹ اپنے زمانے کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی ناول نگاروں میں تھیں، اور "بانو" ان کا سب سے یادگار ناول ہے۔
کہانی 1947 کی ہے۔ ایک لڑکی، جس کا گھر، خاندان اور مستقبل تقسیم کے ہنگاموں میں بکھر جاتا ہے۔ وہ کیا سہتی ہے، کیسے بچتی ہے، اور بچنے کے بعد کیا کھو دیتی ہے، ناول یہی بتاتا ہے۔
یہ کتاب ان دنوں کی عام عورت کی آنکھ سے لکھی گئی ہے۔ اس میں سیاست دانوں کی تقریریں کم ہیں اور قافلوں کی دھول زیادہ۔ رضیہ بٹ کا انداز جذباتی ہے، اور کچھ قاری اسے زیادہ جذباتی بھی کہیں گے، مگر شاید یہ موضوع کسی ٹھنڈے لہجے میں لکھا ہی نہیں جا سکتا تھا۔
اس پر ٹی وی ڈرامہ بھی بنا۔ ہمارے بہت سے گھروں میں نانیاں اور دادیاں اسے پڑھ کر روئی ہیں، کیونکہ اس میں کہیں نہ کہیں ان کی اپنی کہانی تھی۔
Commentsتبصرے (0)
To comment,تبصرہ کرنے کے لیے log inلاگ ان کریں
No comments yet. Be the first to comment!ابھی کوئی تبصرہ نہیں۔ پہلا تبصرہ آپ کریں!