منصور حلاج کا نام اردو شاعری میں بار بار آتا ہے، دار و رسن کے ساتھ، "انا الحق" کے ساتھ۔ مگر وہ آدمی کون تھا، کیسے جیا، کیا سوچتا تھا، اس پر ہمارے ہاں کم لکھا گیا۔

جمیلہ ہاشمی نے اس کمی کو ایک ناول سے پورا کرنے کی کوشش کی۔ "دشتِ سوس" حلاج کی کہانی ہے، مگر یہ تاریخ کی کتاب نہیں۔ اس کی نثر شاعری کے بہت قریب ہے، لمبے، بہتے ہوئے جملے، جن میں صحرا کی ریت بھی ہے اور بغداد کے بازاروں کا شور بھی۔

ناول پڑھتے ہوئے کبھی کبھی لگتا ہے کہ آپ کسی کا خواب پڑھ رہے ہیں۔ یہی اس کی خوبی ہے، اور یہی اس کی مشکل۔

1980 کی دہائی میں چھپا۔ یہ جلدی میں پڑھنے کی کتاب نہیں۔ اسے رات کو، آہستہ، ایک ایک باب کر کے پڑھیے۔