تارڑ صاحب کو زیادہ تر لوگ ان کے سفرناموں سے جانتے ہیں۔ پہاڑ، شمال، جھیلیں۔ "بہاؤ" بالکل دوسری چیز ہے۔
یہ ناول ہمیں ہزاروں سال پیچھے لے جاتا ہے، اس زمین پر جہاں آج پاکستان ہے، ایک دریا کے کنارے بسی ایک بستی میں۔ وہاں کے لوگ کھیتی کرتے ہیں، برتن بناتے ہیں، محبت کرتے ہیں، اور ایک دن محسوس کرتے ہیں کہ دریا کا پانی کم ہو رہا ہے۔ ہر سال تھوڑا اور کم۔
سب سے حیران کن چیز اس کی زبان ہے۔ تارڑ نے کرداروں کے لیے ایک ایسی اردو بنائی ہے جو پرانی اور اجنبی لگتی ہے، جیسے کوئی بھولی ہوئی بولی ہو۔ شروع کے صفحے مشکل لگتے ہیں، پھر کان عادی ہو جاتے ہیں۔
1990 کی دہائی میں چھپا۔ جب پانی کی کمی کی خبریں روز اخبار میں آتی ہوں، تو یہ ناول ایک پرانی کہانی کم اور آنے والے دنوں کی خبر زیادہ لگتا ہے۔
Commentsتبصرے (0)
To comment,تبصرہ کرنے کے لیے log inلاگ ان کریں
No comments yet. Be the first to comment!ابھی کوئی تبصرہ نہیں۔ پہلا تبصرہ آپ کریں!