قرۃ العین حیدر نے یہ ناول بہت کم عمری میں لکھا تھا، اور اس میں وہ جوانی صاف دکھتی ہے۔ ایک ایسے حلقے کی جوانی جس کے لیے زندگی کتابیں، موسیقی، شاموں کی محفلیں اور بڑے بڑے خواب تھی۔

پھر 1947 آتا ہے۔ وہ دنیا جو ہمیشہ کے لیے لگتی تھی، چند مہینوں میں بکھر جاتی ہے۔ دوست سرحد کے دونوں طرف بٹ جاتے ہیں، کوٹھیاں خالی ہو جاتی ہیں، اور وہ بے فکر قہقہے یاد بن جاتے ہیں۔

یہ "آگ کا دریا" جیسی بڑی کتاب نہیں، مگر اسے پڑھ کر سمجھ آتا ہے کہ آگ کا دریا کہاں سے نکلا۔ وقت کے ہاتھوں کھو جانے والی چیزوں کا وہ دکھ، جو عینی آپا کی ہر تحریر میں ہے، یہاں پہلی بار پورے ناول میں پھیلا ہے۔

1949 میں چھپا۔ جو قاری ان کی بڑی کتابوں سے گھبراتا ہو، وہ یہاں سے شروع کر سکتا ہے۔