ایک گدھا جو اخبار پڑھتا ہے، انسانوں کی زبان بولتا ہے، اور جب منہ کھولتا ہے تو وہی بات کہہ دیتا ہے جو انسان کہنے سے ڈرتے ہیں۔
کرشن چندر کا یہ گدھا دہلی آتا ہے اور سرکاری دفتروں، سیاست دانوں، سیٹھوں اور ادیبوں کے بیچ گھومتا ہے۔ لوگ اسے کبھی عجوبہ سمجھتے ہیں، کبھی خطرہ، کبھی استعمال کرنے کی چیز۔ اور قاری کو آہستہ آہستہ یہ احساس ہوتا ہے کہ اس کہانی میں سب سے سمجھدار کردار گدھا ہی ہے۔
کتاب ہنساتی بہت ہے، مگر ہنسی کے پیچھے آزادی کے بعد کے ہندوستان کا وہ چہرہ ہے جو خوابوں سے کافی مختلف نکلا۔
1950 کی دہائی میں لکھا گیا۔ اتنا مقبول ہوا کہ کرشن چندر نے بعد میں اس گدھے کو کچھ اور کتابوں میں بھی واپس بلایا۔ چھوٹا ناول ہے، ایک دو نشستوں میں ختم ہو جاتا ہے۔
Commentsتبصرے (0)
To comment,تبصرہ کرنے کے لیے log inلاگ ان کریں
No comments yet. Be the first to comment!ابھی کوئی تبصرہ نہیں۔ پہلا تبصرہ آپ کریں!