عصمت چغتائی کو لوگ ان کے افسانوں سے جانتے ہیں، اور ان پر چلنے والے مقدموں سے۔ مگر ان کا یہ ناول شاید ان کی سب سے بڑی تحریر ہے۔

شمن ایک بھرے پرے گھر کی سب سے چھوٹی بچی ہے۔ اتنے لوگ ہیں کہ کوئی اسے ٹھیک سے دیکھتا بھی نہیں۔ ناول اسے پیدائش سے پکڑتا ہے اور جوانی تک چھوڑتا نہیں۔ اسکول، ہاسٹل، سہیلیاں، محبتیں، سیاست، اور ہر جگہ یہ احساس کہ وہ وہاں پوری طرح فٹ نہیں ہوتی۔

عصمت کی زبان یہاں بھی وہی ہے: تیز، بے لاگ، گھریلو محاوروں سے بھری۔ وہ شمن کو اچھا یا برا نہیں بناتیں، بس سچا بناتی ہیں۔ اسی لیے کبھی وہ بہت پیاری لگتی ہے اور کبھی بہت چڑچڑی۔

1940 کی دہائی میں چھپا۔ جو قاری "لحاف" سے آگے عصمت کو جاننا چاہے، وہ یہاں سے شروع کرے۔