پریم چند کا نام آتے ہی ذہن میں گاؤں آتا ہے، کسان آتے ہیں۔ مگر یہ ناول شہر کا ہے، اور ایک ایسی گلی کا جس کا ذکر شریف گھروں میں آہستہ آواز میں ہوتا تھا۔

کہانی ایک لڑکی کی ہے جس کی شادی ایک ایسے آدمی سے ہو جاتی ہے جو اس کی قدر نہیں کرتا۔ گھر سے نکلتی ہے تو باہر ایک ہی دروازہ کھلا ملتا ہے۔ پریم چند یہاں رکتے نہیں۔ وہ یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ اس دروازے تک پہنچانے میں کس کس کا ہاتھ تھا، اور ان میں سے کتنے لوگ معزز کہلاتے ہیں۔

یہ ناول وعظ نہیں کرتا، مگر اس کی ہمدردی صاف ہے۔ پریم چند نے اسے پہلے اردو میں لکھا، بعد میں ہندی میں یہ "سیوا سدن" کے نام سے مشہور ہوا۔

ایک صدی پرانی کتاب، جس کے کچھ سوال آج بھی اتنے ہی تیکھے ہیں۔