مراۃ العروس پڑھنے والے اصغری کو جانتے ہیں۔ یہ اس کا اگلا قدم ہے۔ اب وہ گھر سنبھالنے کے ساتھ لڑکیوں کا ایک مدرسہ چلاتی ہے۔

اس مدرسے میں ایک امیر گھر کی بگڑی ہوئی لڑکی حسن آرا آتی ہے، جسے نہ کام آتا ہے نہ بات کرنے کا ڈھنگ۔ کہانی اسی کے سدھرنے کی ہے، مگر مزے کی بات یہ ہے کہ سبق صرف اخلاق کے نہیں۔ لڑکیاں نقشے دیکھتی ہیں، زمین کے گول ہونے پر بات کرتی ہیں، آسمان کے ستارے پہچانتی ہیں۔

ناول کا نام بھی ستاروں سے ہے۔ بنات النعش سات ستاروں کا وہ جھرمٹ ہے جسے ہم دب اکبر بھی کہتے ہیں۔

انیسویں صدی میں لڑکیوں کو سائنس پڑھانے کی بات کرنا معمولی نہیں تھا۔ یہ کتاب اسی لیے پڑھی جانی چاہیے کہ اس کا مصنف اپنے زمانے سے کتنا آگے سوچ رہا تھا، اور کہاں کہاں وہ اپنے زمانے میں ہی رہ گیا۔