ابن الوقت کا نام ہی سب کچھ بتا دیتا ہے۔ وقت کا بیٹا، یعنی جدھر ہوا چلے ادھر مڑ جانے والا۔

غدر کے دنوں میں وہ ایک زخمی انگریز افسر کی جان بچاتا ہے، اور بدلے میں اسے سرکار کی مہربانی ملتی ہے۔ پھر وہ فیصلہ کرتا ہے کہ اب پورا انگریز بن کر دکھائے گا۔ کوٹ پتلون، چھری کانٹا، کتا، بنگلہ۔ مسئلہ یہ ہے کہ انگریز اسے اپنا نہیں سمجھتے، اور اپنے لوگ اسے پرایا سمجھنے لگتے ہیں۔

نذیر احمد کا قلم یہاں بہت تیز ہے۔ ابن الوقت اور اس کے رشتہ دار حجۃ الاسلام کے مباحثے پڑھنے کے لائق ہیں، کیونکہ دونوں کے پاس دلیلیں ہیں اور مصنف کسی ایک کو آسانی سے جیتنے نہیں دیتا۔ آج کے دور میں، جب ہر کوئی کسی اور جیسا بننے کی دوڑ میں ہے، یہ ناول پرانا نہیں لگتا۔

1888 کے آس پاس چھپا۔ نذیر احمد کے مشہور ناولوں میں سب سے زیادہ طنزیہ۔