تم جب بڑی ہو جاؤ گی
تو شاید یہ گھر تمہیں چھوٹا لگے
اس کی سیڑھیاں، جن پر تم نے چلنا سیکھا
اس کی دیوار، جس پر تم نے پہلا الف لکھا
اور جسے میں نے کبھی رنگ نہیں کروایا
تم دنیا دیکھنے جانا
میں دروازے پر کھڑا رہوں گا
جیسے ابھی کھڑا رہتا ہوں
جب تم اسکول وین میں بیٹھتی ہو
اور مڑ کر نہیں دیکھتیں
مجھے برا نہیں لگتا
جو مڑ کر نہیں دیکھتے
انہیں یقین ہوتا ہے
کہ کوئی کھڑا ہے
نظم: قصہ کہانی
Commentsتبصرے (0)
To comment,تبصرہ کرنے کے لیے log inلاگ ان کریں
No comments yet. Be the first to comment!ابھی کوئی تبصرہ نہیں۔ پہلا تبصرہ آپ کریں!