کراچی میں ہر چیز جلدی میں ہے

سوائے سمندر کے


بس، رکشہ، آدمی، خواب

سب کسی نہ کسی طرف بھاگ رہے ہیں

اور سمندر وہیں ہے، کلفٹن کے کنارے

ہر لہر کو واپس بلاتا ہوا


میں یہاں اپنا غصہ لے کر آتا ہوں

اپنی تنخواہ، اپنا ٹوٹا ہوا دل


وہ کچھ نہیں کہتا

بس میرے پاؤں تلے کی ریت لے جاتا ہے


اور واپس جاتے ہوئے

میں ہمیشہ ذرا ہلکا ہوتا ہوں


نظم: قصہ کہانی