بیساکھ آتا تو ابا کی ہنسی بدل جاتی
جیسے کھیت کے ساتھ وہ بھی پک جاتی ہو
درانتی کی آواز، پسینے کی خوشبو
اور شام کو تھریشر کا شور
جو ساری رات چلتا
ہم بھوسے میں چھلانگیں لگاتے
اور اماں دور سے ڈانٹتیں
"آنکھوں میں جائے گا"
اب کھیت ٹھیکے پر ہے
اور ابا شہر میں میرے پاس
اپریل میں وہ بالکونی میں کھڑے
ہوا سونگھتے رہتے ہیں
جیسے کہیں دور سے
کوئی گندم کی خبر لا رہی ہو
نظم: قصہ کہانی
Commentsتبصرے (0)
To comment,تبصرہ کرنے کے لیے log inلاگ ان کریں
No comments yet. Be the first to comment!ابھی کوئی تبصرہ نہیں۔ پہلا تبصرہ آپ کریں!