ریل کی کھڑکی سے ہر چیز پیچھے بھاگتی ہے
کھیت، بھینسیں، ہاتھ ہلاتے ننگے پاؤں بچے
ایک کنواں، جس پر کوئی عورت جھکی ہے
ایک قبر، جس پر کسی نے تازہ پھول رکھے ہیں
یہ سب ایک لمحے کو میرے ہوتے ہیں
پھر کسی اور مسافر کے
میں نے بچپن میں ایک لڑکے کو ہاتھ ہلایا تھا
اس نے بھی جواب دیا تھا
وہ اب کہاں ہوگا
شاید کسی اور ریل میں
کسی اور کھڑکی سے
کسی اور بچے کو ہاتھ ہلا رہا ہو
نظم: قصہ کہانی
Commentsتبصرے (0)
To comment,تبصرہ کرنے کے لیے log inلاگ ان کریں
No comments yet. Be the first to comment!ابھی کوئی تبصرہ نہیں۔ پہلا تبصرہ آپ کریں!