نیم کی شاخ پر رسی کا ایک جھولا تھا

اور اس پر باری کے لیے روز لڑائی ہوتی تھی


پھوپھو کہتیں، بیس تک گنو پھر اترو

ہم سولہ کے بعد آہستہ گننے لگتے


نیم کٹ گیا جب صحن میں کمرہ بنا

ہم بڑے ہو گئے جب کسی نے نہیں دیکھا


اب بھی کبھی کبھی نیند میں

وہ اونچائی آتی ہے

جہاں پاؤں دیوار سے اوپر جاتے تھے

اور پیٹ میں گدگدی سی ہوتی تھی

اور کوئی نیچے سے گنتا تھا

سترہ... اٹھارہ...


نظم: قصہ کہانی