اس کا بستہ چولہے کے پاس رکھا رہتا
کہ روٹی پکاتے پکاتے سبق یاد ہو جائے
آٹے والے ہاتھوں سے پلٹے ہوئے صفحے
آج بھی اس کی کاپیوں میں سفید نشان ہیں
گاؤں میں آٹھویں سے آگے اسکول نہیں تھا
ابا نے کہا بس، بہت ہو گیا
وہ چپ رہی
اور اگلے دن سے
چھوٹے بھائی کی کتابیں پڑھنے لگی
بھائی میٹرک میں دو بار فیل ہوا
وہ ہر بار اس کے ساتھ پاس ہوئی
کسی کاغذ پر نہیں
نظم: قصہ کہانی
Commentsتبصرے (0)
To comment,تبصرہ کرنے کے لیے log inلاگ ان کریں
No comments yet. Be the first to comment!ابھی کوئی تبصرہ نہیں۔ پہلا تبصرہ آپ کریں!