دادا کی گھڑی کو روز چابی دینی پڑتی تھی
فجر کے بعد، چائے سے پہلے، بائیں ہاتھ سے
اب وہ میری دراز میں ہے
اور سات سال سے ساڑھے چار بجا رہی ہے
میں نے کئی بار سوچا کہ چابی دے دوں
پھر خیال آتا ہے
یہ وقت اس کا اپنا ہے
جس شام دادا نے اسے آخری بار نہیں چھوا
اسی شام پر رکی ہوئی ہے
میں اسے آگے نہیں بڑھاتا
کچھ چیزوں کو
اپنی جگہ ٹھہرنے دینا چاہیے
نظم: قصہ کہانی
Commentsتبصرے (0)
To comment,تبصرہ کرنے کے لیے log inلاگ ان کریں
No comments yet. Be the first to comment!ابھی کوئی تبصرہ نہیں۔ پہلا تبصرہ آپ کریں!