پرائے شہر میں عید یوں آتی ہے

جیسے کوئی غلط دروازے پر دستک دے دے


نماز کے بعد سب گلے ملتے ہیں

میں بھی مل لیتا ہوں

ایک اجنبی سے، پھر دوسرے سے

ان کے کندھوں سے

کسی اور گھر کی خوشبو آتی ہے


فون پر امی پوچھتی ہیں، سویاں کھائیں؟

میں کہتا ہوں ہاں


دکان سے ایک پیکٹ لایا تھا

ابھی تک کھولا نہیں

ابھی عید پوری نہیں ہوئی


نظم: قصہ کہانی